سعودی عرب میں پاکستان کی فوجی تعیناتی اور سیکیورٹی
خلیجی سلامتی اور پاکستان کی فوجی تعیناتی: عملی سیکیورٹی کے ابعاد پاکستان اور سعودی عرب کے سیکیورٹی تعلقات محض کاغذوں پر دستخطوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان کی ایک طویل تاریخ اور زمین پر مضبوط عملی موجودگی ہے۔ سٹریٹجک اور دفاعی معاہدوں کی حتمی کامیابی کا انحصار اسی عملی توازن اور پیشگی صف بندی پر ہوتا ہے۔ خلیجی خطے کی دفاعی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستانی فوج کے دستے ایک طویل عرصے سے سعودی عرب میں تربیتی اور دفاعی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ حالیہ علاقائی تناؤ اور بڑھتے ہوئے حملوں نے اس فوجی موجودگی کی سٹریٹجک اہمیت کو اور بڑھا دیا ہے۔ شائع شدہ رپورٹس اس آپریشنل صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔ Arab News کے مطابق پاکستان کی جانب سے مئی میں ہی 8,000 فوجی، JF-17 تھنڈر طیاروں کے سکواڈرن، ڈرونز اور ایئر ڈیفنس یونٹس سعودی عرب بھیجے گئے تھے ۔ DAWN کی رپورٹ میں پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ ہم وہاں پہلے سے موجود ہیں اور حرمین شریفین اور سعودی عرب کے تحفظ کے لیے ہماری وابستگی کسی شک و شبہے سے بالاتر ہے ۔ The Express Tribune کے مطابق خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ چاہے کوئی باقاعدہ معاہدہ ہو یا نہ ...