سلامتی کونسل میں اختلافات اور ایران جوہری بحران
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تقسیم اور علاقائی سیکیورٹی کے خطرات سلامتی کونسل کی اندرونی تقسیم، توازن کی تلاش اور پاکستان کی جانب سے کثیر الجہتی تعاون کی ضرورت پر زور۔ بین الاقوامی امن و سلامتی کے نگہبان ادارے یعنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں موجودہ دور میں جو گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں، انہوں نے کسی بھی موثر فیصلے یا مشترکہ لائحہ عمل کے حصول کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ اس سیاسی اور سفارتی مفلوج کن کیفیت کا خمیازہ پورے خطے کو بھگتنا پڑ سکتا ہے । ایران کے جوہری فائل پر سلامتی کونسل کے اندر اتفاقِ رائے کا فقدان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بڑی طاقتیں اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف اور متصادم زاویے رکھتی ہیں۔ ایک طرف جہاں برطانیہ اور مغربی ممالک تادیبی کارروائی اور سخت انسپکشنز پر زور دے رہے ہیں، وہیں پاکستان جیسے ممالک کثیر الجہتی تعاون اور تعاون پر مبنی سفارت کاری کو بحال کرنے کی اپیل کر رہے ہیں । سلامتی کونسل کے اس ماحول کا تجزیہ ذرائع کی روشنی میں یوں ہے: Permanent Mission of Pakistan to the UN کے مطابق کونسل کے اندر گہرا عدم اعتماد اور آراء کا اختلاف پایا جاتا ہے...