تہران کا واشنگتن کو انتباہ اور ایرانی وزیر دفاع کا بیان
تہران کی نئی دفاعی حکمت عملی اور واشنگتن کے لیے انتباہ: خطے کا مستقبل
مشرق وسطیٰ کے نازک سیکیورٹی ماحول میں تہران کی جانب سے ملنے والے بیانات اور نئی دفاعی قیادت کے اعلانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ جاری محاذ آرائی کے تناظر میں ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی عسکری مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے فوراً بعد، ایران کے نئے مقرر کردہ وزیر دفاع مہرداد اخلاقی نے عالمی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ کوئی فوجی حملہ کیا تو اس کے نتیجے میں واشنگتن اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو ناقابل تلافی اور زبردست نقصان اٹھانا پڑے گا۔
اس فوجی اور سفارتی کشمکش کو خبر رساں اداروں نے تفصیل سے کور کیا ہے۔ Dawn کے مطابق ایرانی وزیر دفاع مہرداد اخلاقی نے خبردار کیا ہے کہ واشنگتن کو کسی بھی نئے حملے کی صورت میں "عظیم نقصان" کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ امریکہ شاید ہی دوبارہ ایسی جرات کرے۔ Reuters نے اجاگر کیا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف کے ساتھ پریس کانفرنس میں اس بات پر زور دیا کہ خطے کے مسائل کا حل خطے کے اندرونی تعاون سے ہی ممکن ہے۔ Business Recorder کے مطابق پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے مسلسل سفارتی اور دوطرفہ چینلز استعمال کر رہے ہیں۔
کیا تہران کی یہ دفاعی انتباہی حکمت عملی امریکہ کو فوجی اقدام سے باز رکھنے میں کامیاب ہو گی؟
ایران کے نئے وزیر دفاع کا کیا نام ہے؟
ایران کے نئے وزیر دفاع مہرداد اخلاقی ہیں۔
ایرانی وزیر دفاع نے امریکہ کے ممکنہ حملے کے بارے میں کیا کہا؟
انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی نئے حملے کے نتیجے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو انتہائی شدید نقصان پہنچے گا۔

Comments
Post a Comment